وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے رہے گا پیار تراساتھ زندگی بن کر یہ اور بات کہ زندگی وفا نہ کرے
ملے ہيں يوں تو بہت، آؤ اب مليں يوں بھي
کہ روح گرمي ِ انفاس سے پگھل جائے
،کہ جانے کون کہاں راستہ بدل جائے
کوئ لمحہ ہو تیری یاد میں کھو جاتے ہیں
اب تو خود کو بھی میسر نہیں آ پاتے ہیں
رات ہو کہ دن ہوترے پیار میں ہم بہتے ہیں
درد کیا ہوتا ہے تنہائ کسے کہتے ہیں
اب جو بچھڑے ہیں تو احساس ہوا ہے ہم کو
یوں تو دنیا کی ہر اک چیز حسیں ہوتی ہے
پیار سے بڑھ کے مگر کچھ بھی نہیں ہوتی ہے
راستہ روک کے ہر اک سے یہی کہتے ہیں
درد کیا ہوتا ہے تنہائی کسے کہتے ہیں
یونہی بے سبب نہ پھرا کرو کوئ شام گھر بھی رہا کرو وہ غزل کی سچی کتاب ہے اسے چپکے چپکے پڑھا کرو کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے یہ نئے مزاج کا شہر ہےزرا فاصلے سے ملا کرو ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں کوئی آئے گا کوئی جائیگا ،تمہیں جس نے دل سے بھلا دیا اسے بھولنے کی دعا کرو مجھے اشتہار سی لگتی ہیں یہ محبتوں کی کہانیاں جو کہا نہین وہ سنا کرو جو سنا نہیں وہ کہا کرو
،وقت سے کھيلنے والوں پہ ہنسي آتي ھے
ايسے ناپختہ خيالوں پہ ھنسي آتي ھے
قصور ھو تو ھمارے حساب مین لکھا جاۓ
محبتوں میں جو احسان ھو تمھارا ھو
کہیں ھوا کا ھی اس نے نہ روپ دھارا ھو
افق تو کیا ، درِ کہکشاں بھی چھو آئیں
مسافروں کو اگر چاند کا اشارا ھو
گلاب ھاتھ میں ھو ، آنکھ میں ستارا ھو
کوئ وجود ِ محبت کا استعارہ ھو
میں گہرے پانی کی اس رو کے ساتھ بہتی رھوں
جزیرہ ھو کہ مقابل کوئ کنارہ ھو
اپنی پیاری سی بہن کے نام
بہت خوبصورت ہے تیرا پیار بہنا یہی آج مجھ کو بس ہے تجھ سے کہنا میرے دل کو تقویت دیتا ہے ہر دم، مجھے اک بھروسہ سا رہتا سے ہر دم کوئی ہو نہ ہو اسے ساتھ رکھنا بہت خوبصورت ہے تیرا پیار بہنا رہے پاس میرے ،کہیں دور جاے ہر اک پل مجھ کو یونہی یاد آے سدا میرے دل میں تو آباد رہنا بہت خوبصورت ہے تیرا پیار بہنا محبت تو اپنوں پیاروں کی پاۓ کوی دُکھ جیون میں کبھی نہ آۓ دعا ہے زندگی میں تو سدا خوش رہے بہت خوبصورت ہے تیرا پیار بہنا دیا ہے تو نے مجھے جو پیار بہنا دعا ہے میری ، یہ سُن لے تو بہنا نہ ہوگی تجھ سی کسی کی بھی بہنا بہت خوبصورت ہے تیرا پیار بہنا
جب نظر آپ کی نہیں ھوتی
زندگی زندگی نہیں ھوتی
کیا نظر تم نے پھیر لی ھم سے
درد میں کیوں کمی نہیں ھوتی
جو بدلی ھےوقت پڑنے پر
وہ نظر اجنبی نہیں ھوتی
جل گئے کتنے آشیانے لیکن
باغ میں روشنی نہیں ھوتی
کیا سمجھتی ھو عشق کو تم
دل لگی دل لگی نہیں ھوتی
ھم جیسے دیوانوں سے پوچھو
قید کے قصے ، دار کی باتیں
ذکر جو ان کا ، بات خرد کی
غافل کی، ھوشیار کی باتیں
حسن کی باتیں پیار کی باتیں
گویا سب بیکار کی باتیں
ایک کی پوجا سب سے بہتر
چھوڑو یہ دو چار کی باتیں
ھم تو ھیں بس پھول کے شیدا
ھم کیا جانیں خار کی باتیں
امن و سکون سے رھنا سیکھو
رھنے دو تلوار کی باتیں
کی ھےکوئی حسین خطأ ،ھر خطا کے ساتھ
تھوڑا سا پیار بھی مجھے دے دو سزا کے ساتھ
گر ڈوبنا ھی اپنا مقدر ھے تو سنو
ڈوبیں گے ھم ضرور مگر نا خدا کے ساتھ
آنکھ غیروں سے چار مت کرنا
قتل ھو جانا ، پیار مت کرنا
چاھے کچھ بھی ھو جنگ کا انجام
تم نہتوں پہ وار مت کرنا