جب چھائ گھٹا،لہرائ دھنک،اک حسنِ مکمل یاد آیا
ان ہاتھوں کی مہندی یاد آئ،ان آنکھوں کا کاجل یاد آیا
سو طرح سے خود کو بہلا کر ہم جس کو بھلائے بیٹھے تھے
کل رات اچانک جانے کیوں وہ ہم کو مسلسل یاد آیا
تنہائ کے ساۓ بزم میں بھی ،پہلو سے جدا جب ہو نہ سکے
جو عمر کسی کے ساتھ کٹی،اس عمر کا پل پل یاد آیا
جو زیست کے تپتے صحرا پر،بھولے سے کبھی برسا بھی نہیں
ہڑ موڑ پہ ہر ایک منزل پر ،پھر کیوں وہی بادل یاد آیا
ہم زود فراموشی کے لئے بدنام بہت ہیں پھر بھی بشیر
جب جب بھی چلی مدماتی پون،ارتا ہوا آنچل یاد آیا
اس طرح دل کے زرد آنگن میں تیری یادوں کے داغ جلتے ہیں جیسے آندھی میں ٹوٹی قبروں پر سہمے سہمے چراغ جلتے ہیں
نام بھی اچھا سا تھا چہرہ بھی تھا ماہتاب سا ہاں ہمیں کچھ یاد ہوتا ہے مگر اک خواب سا
آؤ اک سجدا کریں عالمِ مدہوشی میں لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں
ناکام کہیں ایسا مقدر نہیں دیکھا خوشیوں نے کبھی ہم کو پلٹ کر نہیں دیکھا یوں محوِ عبادت ہوئے ہم یاد میں انکی پھر دل سے کبھی جھانک کے باہر نہیں دیکھا
جاں بخش سی اک برگ گل تر کی تراوٹ وہ لمس عزیزِ دو جہاں یاد رہے گا
ہم بھول سکے ہیں نہ تجھے بھول سکیں گے تو یاد رہے گا، ہمیں ہاںیاد رہے گا
ہاں بزم شبانہ میں ہمیں شوق جو اس دن ہم تو تری جانب نگراں یاد رہے گا
کچھ میر کے ابیات تھے، کچھ فیض کے مصرے اک درد کا تھا جن میں بیاںیاد رہے گا
وہ ٹیس کے ابھری تھی اِدھر یاد رہے گی وہ درد کے اٹھا تھا یہاں یاد رہے گا
ہم شوق کے شعلے کی لپک بھول بھی جائیں وہ شمع فسردہ کا دھواں یاد رہے گا
اس شام وہ رخصت کا سماں یار رہے گا وہ شہر ، وہ کوچہ ، وہ مکاں یاد رہے گا