معاف کر دینا خطائیں اب خدا کے واسطے
لو بچھڑ کر جا رہے ہیں ہم سدا کے واسطے۔۔۔۔۔۔
چھوڑ جاتے ہیں مسافر وقت کی دہلیز پر
لمحہ لمحہ اپنی یادوں کو خدا کے واسطے
ہم ہیں زندانوں کے پنچھی موت سے خائف نہیں
تم نئ تحریر لکھو پھر سزا کے واسطے
زرد پتے اک شجر پر صورتِ کشکول تھے
جو گِرا آندھی سے ٹھہرا تھا سزا کے واسطےسر جھکا کر شہر میں آنا پڑا جس شخص کو
سر کٹا آیا وہ اپنا خود انا کے واسطے
زندگی کی شام سے پہلے مجھے آواز دے
مجھ کو مٹنا ہے بنا ہوں میں فنا کے واسطے
اک خواہش پھر رہی ہے چلچلاتی دھوپ میں
چیختی ہے شاد جو اب بھی ردا کے واسطے