اس تھریڈ میں ایسے اشعار ،غزلیں یا گانے پوسٹ کریں جن میں (وفا)(بےوفا) کے الفاظ آتے ہوں ،،،،،تعداد کی کوئئ قید نہیں اور نہ باری کی قید ہے ،جب چاہیں جتنا چاہیں پوسٹ ریپلائی کریں ،،،،،ششششششششششکریہ
ہم بے وفا ہر گز نہ تھے پر ہم وفااااا کر نہ سکے ہم کو ملی اس کی سزا ہم جو خطااااا کر نہ سکے کتنی اکیلی تھیں وہ راہیں ہم جن پر اب تک اکیلے چلتے رہے تم سے بچھڑ کے بھی اوہ بے خبر ہم تیرے ہی غم میں جلتے رہے تم نے کیا جو شکوہ ہم وہ گلہ کر نہ سکے ہم بے وفا ہر گز نہ تھے پر ہم وفا کر نہ سکے تم نے جو دیکھا سنا سچ تھا مگر کتنا تھا سچ یہ کس کو پتاااااا جانے تمہیں میں نے کوئی دھوکہ دیا جانےتمہیں کوئی دھوکہ ہوا اس پیار میں سچ جھوٹ کا تم فیصلہ کر نہ سکے ہم بے وفا ہر گز نہ تھے پر ہم وفا کر نہ سکے ہم کو ملی اس کی سزا ہم جو خطا کر نہ سکے
تیرے لۓ او جانِ جاں لاکھوں ستم اٹھا ئیں گے یونہی سہیں گے درد وغم زخمِ جگر چھپائیں گے سوچا نہ تھا کہ پیار میں ایسے بھی ہونگے امتحاں ایسے بھی ہونگے امتحاں تم بھی بنو گے اجنبی ہم بھی نظر چرائیں گے تیرے لئے اوجانِ جاں کس کو خبر تھی زندگی ہنس نہ سکے گی پھر کبھی ہنس نہ سکے گی پھر کبھی جیتے ہوۓ خوشی کے دن اشکوں میں ڈوب جائیں گے تیرے لئے اوجانِ جاں ہونا تھا جو وہ ہوچکا اب تو یہی ہے فیصلہ اب تو یہی ہے فیصلہ مر کے بھی ہم تیری قسم رسمِ وفا نبھائیں گے تیرے لئے اوجانِ جاں لاکھوں ستم اٹھائیں گے یونہی سہیں گے درد وغم زخمِ جگر چھپائیں گے تیرے لئے اوجانِ جاااااااااااااااااااں
ارے او بے مروت ارے او بے وفا بتا دے کیا یہی ہے وفاؤں کا صلہ ارے او بے مروت ۔۔۔۔۔۔۔ فسانہ عجب ہے مری زندگی کا لگا داغ دامن پہ میرے کسی کا کسی سے شکایت کسی سے کیا گلہ بتا دے کیا یہی ہے وفاؤں کا صلہ ارے او بے مروت۔۔۔۔۔۔۔ مری بے گناہ خطابن گئی ہے تری بے رخی اک سزا بن گئی ہے کسی کو کیا کہیں ہم پہ گزری ہے کیا بتا دے کیا یہی ہے وفاؤں کا صلہ ارے او بے مروت ارے او بے وفا بتا دے کیا یہی ہے وفاؤں کا صلہ محبت پہ تجھ کو بھروسہ نہیں ہے یہ اہلِ محبت کا شیوہ نہیں ہے مٹا کے ہمیں تجھ کو ملا تو کیا ملا بتا دے کیا یہی ہے وفاؤں کا صلہ ارے او بے مروت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بے وفا جا تیرا وعدہ دیکھا ہم نے کل بھی ترا رستہ دیکھا
وفاؤں کی ہم کو سزا تو نہ دو گے بس اتنا بتادو ،دغا تو نہ دو گے ، ہاں جی اتنا بتا دو دغا تو نہ دو گے وفاؤں کی ہم کووووووووووو
آپ کو بھول جائیں ہم اتنے تو بے وفا نہیں آپ سے کیا گلہ کریں آپ سے کچھ گلہ نہیں کاش وہ اپنے غم مجھے دے دیں تو کچھ سکوں ملے کاش وہ اپنے غم مجھے دے دیں تو کچھ سکوں ملے وہ کتنا بد نصیب ہے غم بھی جسے ملا نہیں آپ کو بھول جائیں ہم شیشۂ دل کو توڑنا ان کا تو ایک کھیل ہے شیشۂ دل کو توڑنا ان کا تو ایک کھیل ہے ہم سے ہی بھول ہوگئی اُن کی کوئی خطا نہیں آپ کو بھول جائیں ہم اتنے تو بے وفا نہیں آپ سے کیا گلہ کریں آپ سے کچھ گلہ نہیں
جرم ہےگر وفا تو کیا ، کیوں بےوفا کو چھوڑ دوں
جرم ہےگر وفا تو کیا ، کیوں بےوفا کو چھوڑ دوں کہتے ہیں اس گناہ کی ہوتی کوئی سزا نہیں
اُس نےنرم کلیوں کو روند روند پاؤں سے تازگی بہاروں کی چھین لی اداؤں سے بھیج اپنے لہجےکی نرم گر م کچھ تپش برف کب پگھلتی ہے، چاند کی شعاؤں سے پاؤں میں خیالوں کے، راستے بچھائے ہیں آج ہی چرانےہیں، پھول اس کےگاؤں سے دور دور رہتی ہے ایک غمزدہ لڑکی ہجر توں کی راہوں سے، وصل کی سراؤں سے تیرےجسم کی خوشبو ، شام کی اداسی میں موتیئےکےپھولوں نےچھین لی ہواؤں سے پیار کی کہانی میں سچ اگر ملے نیناں عمر باندھ لیتی ہیں لڑکیاں وفاؤں سے
مثال ِ برگ میں خود کو اڑانا چاہتی ہوں ہوائے تند پہ مسکن بنانا چاہتی ہوں وہ جن کی آنکھوں میں ہوتا ہے زندگی میں ملال اسی قبیلے سے خود کو ملانا چاہتی ہوں جہاں کےبند ہیں صدیوں سےمجھ پہ دروازے میں ایک بار اسی گھر میں جانا چاہتی ہوں ستم شعار کی چوکھٹ پہ عدل کی زنجیر برائے داد رسی اب ہلانا چاہتی ہوں نجانےکیسےگزاروں گی ہجر کی ساعت گھڑی کو توڑ کےسب بھول جانا چاہتی ہوں مسافتوں کو ملی منزل ِ طلب نیناں وفا کی راہ میں اپنا ، ٹھکانہ چاہتی ہو ں
دیکھ کر ہم تیری صورتآشنا کہنے کو ہیں تجھ کو اے زنجیرِ پاؤںمرحبا کہنے کو ہیں دل کی ہلچل ہے ابھی تک بے یقینی کا شکار تیری وادی میں مقام ِپرفضا کہنے کو ہیں دل کے زخموں کو زرا بھی شوخیاںدیتی نہیں چاند تیری ساری کرنیں دلربا کہنے کو ہیں لاج رکھنا تم بھی اب ان قیمتی الفاظ کی میری آنکھیں مسکرا کر باوفا کہنے کو ہیں بس اسیری کا جنوں ہے زندگی اور کچھ نہیں جانتا ہوں تیری زلفیں خوشنما کہنے کو ہیں اس کی قدرت تو کرم کی انتہا کر بھی چکی اور میرے لب ابھی حرفِ دعا کہنے کو ہیں اجنبی بن کر گزرتی ہے ہوا کے ساتھ ساتھ اے خوشی رک جاتجھے ہم آشنا کہنے کو ہیں ناز پرور ہے ہمارا ذوقِ بینائ بہت ہر کسی چہرے کو ہم بس آپ کا کہنے کو ہیں چھوڑ جاتی ہیں خزاؤں میں ہمارا ساتھ کیوں زخم کی لزّت،تجھے ہم بے وفا کہنے کو ہیں خلوتوں میں جام و مینا سے روابط کی قسم ہم نہ کہتے تھے کہ حضرت پارسا کہنے کو ہیں غم ہے انجمؔ دور رہنے کا ستاروں سے مگر جانتے ہیں اپنے جھرمٹ سے جدا کہنے کو ہیں
اس طرف سے کوئی طوفان ھوا لے کر چلی اور ادھر سے میں بھی ھتھیلی پہ دیا لے کر چلی مال و زر لے کر سبھی آۓ تیری محفل میں میرے آنچل میں وفا تھی میں وفا لے کر چلی مجھ کو یہ در بدری تو نے ھی بخشی مگر جب گھر سے چلی تو میں تیرا نام لے کر چلی
مجھ کو آۓ گا کسی روز منانے والا۔ اتنا ظالم تو نہیں رُوٹھ کے جانے والا آج کے دور میں امیدِ وفا کس سے رکھیں دھوپ میں بیٹھا ھے خود پیڑ لگانے والا اس پر بربادی کا الزام لگائیں کیسے برف کے شہر میں رھتا ھے جلانے والا دانے دانے کو وہ محتاج نظر آتا ھے تھا جو ھاتھوں کی لکیریں بتانے والا
شمار گردش لیل و نہار کرتے ھوۓ گزر چلی ھے تیرا انتظار کرتے ھوۓ،، ھوس کی اور لغت ھے، وفا کی اور زبان یہ راز ھم پہ کھلا انتظار کرتے ھوۓ
کچھ اس طرح سے وفا کی مثال دیتا ھوں سوال کرتا ھے کوئی تو ٹال دیتا ھوں اسی سے کھاتا ھوں فریب منزل کا میں جس کے پاؤں سے کانٹا نکال دیتا ھوں
کب نہ جانے کدھر کا رخ کر لیں ان ھواؤں کا کیا بھروسہ ھے دل میں کچھ، لب پہ کچھ ،نگاہ میں کچھ بے وفاؤں کا کیا بھروسہ ھے
ھزاروں عذابوں می دل کر گیا ھے وہ یہ سلسلہ مستقل کر گیا ھے اسے بےوفائی کسی سے ملی تھی وہ میری طرف منتقل کر گیا ھے
کون تھا جو مجھے بددعا دے گیا بس خیالوں کا اک سلسلہ دے گیا دل کی بستی چراغوں سے محروم ھے اپنے دامن کی ایسی ھوا دے گیا اپنے چہرے کو دیکھے زمانہ ھو گیا اور میرے ھاتھوں میں آئینہ دے گیا تیری پلکوں کے جگنو سلامت رھیں اک بھکاری مجھے یہ دعا دے گیا مجھ کو جینے کی کیسی سزا دے گیا کون تھا جو مجھے بددعا دے گیا تو نے تسّّّنّیّم چاھا جسے ٹوٹ کر وہ وفا کے بدلے جفا دے گیا
ہر نفس درد کے سانچے میں ڈھلا ہو جیسے زیست ناکردہ گناہوں کی سزا ہو جیسے لے گئی یوں مجھے خوابوں کے جزیروں کی طرف نکہت َ گل تیرے آنچل کی ہوا ہو جیسے ظلمت َ شام َ الم مجھ سے گریزاں ہے ابھی اک ستارہ مری پلکوں میں چھُپا ہو جیسے تیری زلفیں بھی پریشاں ہیں مرے دل کی طرح تو بھی کچھ دیر مرے ساتھ رہا ہو جیسے میں ترے سائے سے بچ بچ کے چلا ہوں اکثر مری منزل تری منزل سے جدا ہو جیسے پھول مانگوں تو عطا کرتے ہیں زخموں کے کنول اب یہی شیوۂ ارباب َ وفا ہو جیسے یوں مری آنکھ سے اوجھل وہ رہا ہے اکثر اس کا پیکر مرے خوابوں میں ڈھلا ہو جیسے چاندنی اپنے تقدّس پہ ہے نازاں اتنی مریم َ شب کی خطا پوش ردا ہو جیسے آج پھر ان سے ملاقات ہوئی ہے محسن آج پھر دل پہ کوئی زخم لگا ہو جیسے