مری تصویر مرے خط بھی جلانے والے
میں نہ بھولوں گا تجھے مجھ کو بھلانے والے
کون چاہے گا تجھے میری طرح دنیا میں
دل کی تختی سے مرا نام مٹانے والے
یہ ضروری تو نہیں ہم کو خوشی ہو حاصل
ہم تو طالب ہیں ترے غم ہی اٹھانے والے
اب زمانے سے نہیں کوئی شکایت ہم کو
اس نے بھی سیکھ لئے گر یہ زمانے والے
رکھ کبھی پیار کا مرہم بھی مرے زخموں پر
مجھ کو ہر روز نیازخم لگانے والے
تو ہی قاتل ہے مرا صاف نظر آتا ہے
خون سے لتھڑے ہوۓ ہاتھ چھپانے والے
سیف دیکھی نہ کبھی ان کی نگاہوں میں وفا
جتنے دیکھے ہیں یہاں دل کو لبھانے والے