ہیں اشک آنکھوں میں رنج و الم کی سوغاتیں
یہ نہ ہی پوچھئے پایا ہے کیا وفا کر کے
انہیں یہ دعوٰے ہے میرے سبھی رفیق ہیں وہ
گۓ ہیں آج شعلوں میں جو ہوا کر کے
مجھے پتہ ہے چلا ،وہ بھی سب سے چھینتا ہے
جو مانگتا تھا زمانے سے التجا کر کے
حصول خوشیوں کا اپنے مقدر میں نہیں
جئے ہی جاتے ہیں ہم غم سے اب نباہ کر کے
میں دیکھتی ہوں سکون ان کو بھی نصیب نہیں
جو دل کو توڑ دیا کرتے ہیں جفا کر کے
انہیں زمانہ بھی جھک کے سلام کرتا ہے
جو مسکراتے ہیں خود کو یونہی مٹا کر کے
عجیب بات ہے سب لوگ اس کی کھوج میں ہیں
وہ ایک شخص جو چھُپ ہی گیا صدا کر کے
انا کی جنگ میں برسوں کا ساتھ چھوٹ گیا
ہم اشک پیتے رہے خود سے ہی گلہ کر کے
نصیب والے نے کیسی یہ موت پائی ہے
بھنور میں ڈوب گیا سب کا وہ بھلا کر کے
طلوعِ سحر ہے ظلمت کا دور ختم ہوا
پیام لائی ہےبادِ صبا لکھا کر کے